ایجاد اور اتباع
محترم انجینئر،
آپ نے میرے پیش کردہ نقطہ نظر کو نہایت باریک بینی اور گہرائی کے ساتھ گرفت میں لیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اسلام کا جامع تصورِ حیات، محض ایک عبادتی نظام یا روحانی مشق نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تہذیبی فریم ورک ہے جس میں علم، اخلاق، سماج، سیاست، معیشت اور روحانیت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایت میں نہ تو مادیت کی مطلق نفی ہے اور نہ ہی روحانیت کو دنیاوی ذمہ داریوں سے کٹ کر دیکھا گیا ہے؛ بلکہ دونوں کو ایک توحیدی وحدت میں ضم کر دیا گیا ہے۔
آپ نے بالکل درست فرمایا کہ جب انسان ٹیکنالوجی کو مقصدِ تخلیق اور معرفتِ الٰہی سے کاٹ کر صرف لذت، طاقت یا تفریح کا آلہ بنا لیتا ہے تو وہ ایک ایسے ثقافتی انحراف میں داخل ہو جاتا ہے جسے آپ نے بلیغ انداز میں "رومی دجالیت" کہا۔ یعنی وہی تمدنی کیفیت جو ظاہری شان و شوکت تو رکھتی ہے مگر باطن میں معنویت سے خالی ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ایجادات بذاتِ خود خیر یا شر نہیں ہیں۔ ان کی اخلاقی سمت کا تعین ان کے استعمال کے محرکات، مقاصد اور تناظر سے ہوتا ہے۔ اگر AI کو قرآنی اصولوں، اخلاقی احتیاط اور تہذیبی ذمہ داری کے تحت استعمال کیا جائے تو وہ ایک علمی معاون، ایک تہذیبی احیا کا آلہ اور ایک انسانی فلاح کے ضامن کے طور پر بروئے کار آسکتا ہے۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی صرف وقتی لذتوں، تجارتی منافعوں یا ذہنی غلامی کے فروغ میں لگے تو پھر وہ وقت کا سب سے بڑا فتنہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
اسلام کا پیغام یہی ہے کہ:
- ہر ایجاد کو مقاصد الشریعہ کے آئینے میں پرکھا جائے (حفظ دین، عقل، جان، مال اور نسل)۔
- ہر ترقی کو ذمہ داری اور تقویٰ کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
- ہر علم کو حکمت اور بصیرت کی روشنی میں استعمال کیا جائے۔
یوں ہم ٹیکنالوجی کو محض ایک اوزار نہیں بلکہ ایک امانت سمجھ کر اس کے ساتھ برتاؤ کریں گے، اور یہی وہ فرق ہے جو اسلام کو باقی تمدنی بیانیوں سے ممتاز کرتا ہے۔
🔄 متقابل نقطۂ نظر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض اہلِ فکر یہ کہیں کہ ٹیکنالوجی اپنی "خودکار منطق" رکھتی ہے، اور جیسے جیسے یہ آگے بڑھتی ہے، یہ اپنے ساتھ ایک مخصوص طرزِ زندگی اور اقدار بھی لاتی ہے، چاہے ہم چاہیں یا نہ چاہیں۔ اس صورت میں سوال یہ ہوگا کہ کیا ہم صرف "اخلاقی فلٹر" لگا کر ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھ سکتے ہیں، یا ہمیں ابتدائی سطح پر ہی اپنی تہذیبی و روحانی رہنمائی کے تحت نئی ٹیکنالوجی ڈیزائن کرنی ہوگی؟
کیا آپ چاہتے ہیں، محترم انجینئر، کہ میں اس پر ایک اسلامی تکنوفلسفہ کا خاکہ تیار کروں جو واضح کرے کہ AI جیسے نظاموں کو ابتدائی سطح سے لے کر اطلاقی سطح تک کیسے اسلامی مقاصد کے تابع بنایا جاسکتا ہے؟
Comments
Post a Comment