Posts

کمال اور عدل کا توازن

جی محترم انجینئر، اس خیال کو آسان اُردو میں یوں سمجھا جاسکتا ہے: ۱۔ بہترین کمال (آزاد و خود آگاہ انسان) یہ وہ مثالی شخصیت ہے جو عام راستوں سے اوپر اُٹھ کر نئے اصول بناتی ہے۔ وہ صرف دوسروں کی پیروی نہیں کرتی بلکہ دنیا کے لیے نئے زاویے کھولتی ہے۔ انعام میں پہلو: یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کسی شخص نے علم اور فہم کے ایسے دروازے کھولے جو پہلے سوچے بھی نہ گئے تھے۔ خطرہ: اگر صرف کمال پر زور ہو تو شخصیت عام انسانوں کی ضرورتوں اور دکھ درد سے کٹ سکتی ہے۔ ۲۔ مکمل کفایت (کامل ذمہ دار مجتہد) یہ وہ شخصیت ہے جو اپنے علم اور سمجھ سے فیصلے کرتی ہے، مگر ہر قدم ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ لیتی ہے۔ یعنی اتنی اہلیت رکھتی ہے کہ کسی دوسرے پر انحصار نہ کرے، اور اس کے فیصلے انسانیت کے لیے قابلِ بھروسہ ہوں۔ انعام میں پہلو: یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کسی شخص نے اپنے وسیع علم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا ہے اور انسانوں کی بھلائی کو مرکز رکھا ہے۔ خطرہ: اگر صرف کفایت پر زور ہو تو نئی راہیں کھلنے کی بجائے سوچ محدود رہ سکتی ہے۔ ۳۔ صدی میں ایک بار دیا جانے والا انعام یہ انعام ہر سو سال میں صرف ایک بار دیا ...

ممتا کی نیوروسائنس

محترم انجینئر، زونہ انسرٹا، ماں کے ساتھ گہرا تعلق، اور قبل از وقت غم —یہ تینوں بظاہر الگ الگ موضوعات ہیں مگر گہرائی میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زونہ انسرٹا اور دین دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو خوف، درد، امید اور غیر یقینی کیفیت کو سنبھالتا ہے۔ اسے "زونہ انسرٹا" کہا جاتا ہے، یعنی "نامعلوم حصہ"۔ یہی مقام انسان کو شک اور اعتماد کے بیچ میں رکھتا ہے۔ جب بندہ دعا یا ذکر میں ہوتا ہے اور دل غیر یقینی کے باوجود سکون ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، تو یہ حصہ فعال رہتا ہے۔ گویا یہ وہ دروازہ ہے جہاں سے انسان کی بےچینی اللہ پر بھروسے میں بدل سکتی ہے۔ ماں کے بیٹے کا استعارہ معاشرتی طور پر "ماں کے بیٹے" سے مراد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی ماں سے غیر معمولی حد تک جڑے رہتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر یہ گہرا رشتہ ایک محفوظ پناہ گاہ کی علامت ہے۔ مذہبی معنوں میں یہی تعلق ماں کی رحمت سے بڑھ کر اللہ کی بے پایاں رحمت کا عکس بن جاتا ہے۔ قرآن میں "رحم" اور "رحمت" کا تعلق بھی اسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ قبل از وقت غم جب کوئی شخص جانتا ہے کہ اس کی ماں یا کوئی قریبی رشتہ ...

مشکل کے ساتھ آسانی

پیریسٹالسس یا حرکت دودیہ یعنی امعائی حرکت  کو سادہ انداز میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ ہمارے جسم میں ایک قدرتی لَے دار حرکت ہے، جس کے ذریعے خوراک یا مائع آہستہ آہستہ ایک نالی سے دوسری طرف بڑھتا ہے۔ مثال کے طور پر معدے اور آنتوں کی دیواریں باری باری سکڑتی اور ڈھیل چھوڑتی ہیں، اور یہی تال میل کھانے کو آگے دھکیلتا ہے۔ یہ محض جسمانی عمل نہیں، بلکہ ایک طرح کی فلسفیانہ علامت بھی ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ زندگی میں آگے بڑھنا ہمیشہ سیدھا اور مسلسل نہیں ہوتا بلکہ کبھی دباؤ (سکڑاؤ) آتا ہے اور کبھی کشادگی (ڈھیل) ملتی ہے۔ یہی دباؤ اور کشادگی کا امتزاج انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔ جذباتی سطح پر بھی ہم ایسا ہی محسوس کرتے ہیں: کبھی دل بھاری اور تنگ ہو جاتا ہے، پھر سکون اور وسعت ملتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پیریسٹالسس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کی حرکت اور ترقی لَے اور توازن کے ساتھ ہے—نہ مسلسل سختی میں، نہ ہمیشہ آسانی میں، بلکہ دونوں کے امتزاج سے۔ کیا آپ چاہتے ہیں میں اس کو مزید قرآنی اصطلاحات جیسے "قبض و بسط" کے حوالے سے بیان کروں؟

علمی سادگی

ایک بار کا ذکر ہے کہ ایک بڑے شہر کی ایک قدیم جامعہ میں ایک نوجوان استاد پڑھاتا تھا۔ وہ نہایت ذہین اور باصلاحیت تھا، لیکن اس کی فطرت کچھ الگ تھی۔ وہ دوسروں کی طرح اپنی شہرت کی فکر نہیں کرتا تھا، نہ ہی اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اس کا سارا دھیان صرف اپنے علم اور اپنے شاگردوں کی رہنمائی پر مرکوز رہتا۔ یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ اکثر اپنے لباس، اندازِ گفتگو، اور تعلقات کو اس طرح ڈھالتے کہ ان کی شخصیت زیادہ پرکشش اور مقبول نظر آئے۔ وہ اپنے کام سے زیادہ اپنی شہرت کے خول کو سنوارتے۔ لیکن یہ استاد ان سب کھیلوں سے بے نیاز رہتا۔ اس کی آنکھوں میں بس ایک روشنی تھی—علم کی روشنی۔ طلبہ پہلے پہل اسے عجیب سمجھتے کہ وہ نہ تو خوشامد کرتا ہے، نہ ہی کسی رسمی مجلس میں اپنی بڑائی جتاتا ہے۔ وہ سیدھے الفاظ میں پڑھاتا اور اپنے خیالات کو بغیر کسی دکھاوے کے بیان کرتا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ شاگردوں نے محسوس کیا کہ اس کی باتوں میں ایک ایسی گہرائی ہے جو عام استادوں میں نہیں ملتی۔ ایک دن جامعہ کے بڑے ہال میں علمی مذاکرہ ہوا۔ سب استاد اپنی اپنی تحقیق کو بڑے فخریہ انداز میں پیش کر رہے...

دکھ اور اصلاح

یہ رہا آپ کے لیے وہی مضمون ایک مربوط اور اکٹھے بیان کی صورت میں، بغیر ذیلی عنوانات کے: نیورو ڈائیورس سولائزیشنل پائیوٹ فریم ورک اس سوچ کا نام ہے جس میں کسی بھی لمبے عرصے کی تعلیمی یا فکری محنت کے بعد پیدا ہونے والی آہستہ اور منصفانہ ناکامی کو شکست نہیں بلکہ ایک اخلاقی گواہی اور تعمیرِ نو کا موقع سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص برسوں تک امانت اور ذمہ داری کے ساتھ تعلیم یا رہنمائی کا بوجھ اٹھائے اور پھر بیرونی حالات یا ناقابلِ کنٹرول دباؤ کی وجہ سے اس کا سلسلہ ٹوٹ جائے، تو یہ ٹوٹنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان نے اپنی حد تک انصاف کیا، اپنی ذمہ داری نبھائی اور اب نظام کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی ناکامی میں ذاتی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ پورے ماحول اور ڈھانچے کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ اس تجربے کے بعد انسان کے اندر جو دکھ، دباؤ اور مایوسی پیدا ہوتی ہے، وہ ضائع نہیں ہوتی بلکہ نیورو ڈائیورس کتھارسس کے ذریعے نئے خیالات میں ڈھل سکتی ہے۔ یہ کتھارسس مختلف ذہنی اور جذباتی راستوں سے ظاہر ہوتا ہے، کبھی تحریر یا تحقیق میں، کبھی تخلیقی اظہار میں اور کبھی گہرے تجزیے میں۔ یہ عمل دکھ کو ...

ایجاد اور اتباع

محترم انجینئر، آپ نے میرے پیش کردہ نقطہ نظر کو نہایت باریک بینی اور گہرائی کے ساتھ گرفت میں لیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اسلام کا جامع تصورِ حیات، محض ایک عبادتی نظام یا روحانی مشق نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تہذیبی فریم ورک ہے جس میں علم، اخلاق، سماج، سیاست، معیشت اور روحانیت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایت میں نہ تو مادیت کی مطلق نفی ہے اور نہ ہی روحانیت کو دنیاوی ذمہ داریوں سے کٹ کر دیکھا گیا ہے؛ بلکہ دونوں کو ایک توحیدی وحدت میں ضم کر دیا گیا ہے۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ جب انسان ٹیکنالوجی کو مقصدِ تخلیق اور معرفتِ الٰہی سے کاٹ کر صرف لذت، طاقت یا تفریح کا آلہ بنا لیتا ہے تو وہ ایک ایسے ثقافتی انحراف میں داخل ہو جاتا ہے جسے آپ نے بلیغ انداز میں "رومی دجالیت" کہا۔ یعنی وہی تمدنی کیفیت جو ظاہری شان و شوکت تو رکھتی ہے مگر باطن میں معنویت سے خالی ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ایجادات بذاتِ خود خیر یا شر نہیں ہیں۔ ان کی اخلاقی سمت کا تعین ان کے استعمال کے محرکات، مقاصد اور تناظر سے ہوتا ہے۔ اگر AI کو قرآنی اصولوں، اخلاقی احتیاط اور تہذیبی ذمہ د...

سنت نبوی اور مہدویت

Excellent — now you want to place Maududi’s constitutional Sunnah + Mahdian noopolitics in conversation with the twelve Imams’ archetypal qualities . This lets us think of Sunnah (present constitution) and Mahdi (future horizon) not as abstract binaries, but as lived virtues embodied across generations of Ahl al-Bayt. Here is a rewritten essay in that light: Sunnah, Mahdi, and the Archetypal Qualities of the Twelve Imams Maulana Maududi (رحمه الله) taught that the Sunnah of the Prophet ﷺ is the constitutional foundation of Islam — the lived grammar of revelation, turning the Qur’an into a functioning civilization. At the same time, he affirmed the coming of Imam Mahdi as a horizon of hope. Yet, unlike those who retreat into passivity, Maududi insisted that the Ummah must act here and now: to embody Sunnah is to shoulder responsibility; to anticipate Mahdi is to sustain courage. But how do we understand this dialectic more deeply? One way is to see it refracted through the twelv...