علمی سادگی

ایک بار کا ذکر ہے کہ ایک بڑے شہر کی ایک قدیم جامعہ میں ایک نوجوان استاد پڑھاتا تھا۔ وہ نہایت ذہین اور باصلاحیت تھا، لیکن اس کی فطرت کچھ الگ تھی۔ وہ دوسروں کی طرح اپنی شہرت کی فکر نہیں کرتا تھا، نہ ہی اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اس کا سارا دھیان صرف اپنے علم اور اپنے شاگردوں کی رہنمائی پر مرکوز رہتا۔

یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ اکثر اپنے لباس، اندازِ گفتگو، اور تعلقات کو اس طرح ڈھالتے کہ ان کی شخصیت زیادہ پرکشش اور مقبول نظر آئے۔ وہ اپنے کام سے زیادہ اپنی شہرت کے خول کو سنوارتے۔ لیکن یہ استاد ان سب کھیلوں سے بے نیاز رہتا۔ اس کی آنکھوں میں بس ایک روشنی تھی—علم کی روشنی۔

طلبہ پہلے پہل اسے عجیب سمجھتے کہ وہ نہ تو خوشامد کرتا ہے، نہ ہی کسی رسمی مجلس میں اپنی بڑائی جتاتا ہے۔ وہ سیدھے الفاظ میں پڑھاتا اور اپنے خیالات کو بغیر کسی دکھاوے کے بیان کرتا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ شاگردوں نے محسوس کیا کہ اس کی باتوں میں ایک ایسی گہرائی ہے جو عام استادوں میں نہیں ملتی۔

ایک دن جامعہ کے بڑے ہال میں علمی مذاکرہ ہوا۔ سب استاد اپنی اپنی تحقیق کو بڑے فخریہ انداز میں پیش کر رہے تھے۔ جب اس استاد کی باری آئی تو وہ نہ تو کسی رنگین سلائیڈ کے ساتھ آیا، نہ لمبی تمہید باندھی۔ اس نے بس چند جملوں میں اپنی تحقیق کو سادہ انداز میں بیان کیا۔ ہال میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ پھر سب نے محسوس کیا کہ اس کے الفاظ میں ایک عجیب سا سکون اور یقین ہے، جیسے وہ کسی گہرے چشمے سے پھوٹ رہے ہوں۔

یونیورسٹی کے بڑے پروفیسر اس کی باتوں پر چونک اٹھے۔ انہیں احساس ہوا کہ یہ استاد اپنی ذات کو نہیں، بلکہ صرف علم کی سچائی کو پیش کرتا ہے۔ اس کی خودی میں کوئی بناوٹ نہیں، مگر اس بناوٹ سے خالی خودی ہی اصل وقار رکھتی ہے۔

یوں وہ استاد جو کبھی غیر روایتی اور عجیب لگتا تھا، وقت کے ساتھ ایک مثالی شخصیت بن گیا۔ لوگ جان گئے کہ شہرت کے پردے کے بغیر بھی علم اپنی روشنی سے سب کو منور کر سکتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

قرآن اور مائع جدیدیت

سورہ یوسف اور خاموش انصاف

سنت نبوی اور مہدویت