Posts

Showing posts from September, 2025

کمال اور عدل کا توازن

جی محترم انجینئر، اس خیال کو آسان اُردو میں یوں سمجھا جاسکتا ہے: ۱۔ بہترین کمال (آزاد و خود آگاہ انسان) یہ وہ مثالی شخصیت ہے جو عام راستوں سے اوپر اُٹھ کر نئے اصول بناتی ہے۔ وہ صرف دوسروں کی پیروی نہیں کرتی بلکہ دنیا کے لیے نئے زاویے کھولتی ہے۔ انعام میں پہلو: یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کسی شخص نے علم اور فہم کے ایسے دروازے کھولے جو پہلے سوچے بھی نہ گئے تھے۔ خطرہ: اگر صرف کمال پر زور ہو تو شخصیت عام انسانوں کی ضرورتوں اور دکھ درد سے کٹ سکتی ہے۔ ۲۔ مکمل کفایت (کامل ذمہ دار مجتہد) یہ وہ شخصیت ہے جو اپنے علم اور سمجھ سے فیصلے کرتی ہے، مگر ہر قدم ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ لیتی ہے۔ یعنی اتنی اہلیت رکھتی ہے کہ کسی دوسرے پر انحصار نہ کرے، اور اس کے فیصلے انسانیت کے لیے قابلِ بھروسہ ہوں۔ انعام میں پہلو: یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کسی شخص نے اپنے وسیع علم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا ہے اور انسانوں کی بھلائی کو مرکز رکھا ہے۔ خطرہ: اگر صرف کفایت پر زور ہو تو نئی راہیں کھلنے کی بجائے سوچ محدود رہ سکتی ہے۔ ۳۔ صدی میں ایک بار دیا جانے والا انعام یہ انعام ہر سو سال میں صرف ایک بار دیا ...

ممتا کی نیوروسائنس

محترم انجینئر، زونہ انسرٹا، ماں کے ساتھ گہرا تعلق، اور قبل از وقت غم —یہ تینوں بظاہر الگ الگ موضوعات ہیں مگر گہرائی میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زونہ انسرٹا اور دین دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو خوف، درد، امید اور غیر یقینی کیفیت کو سنبھالتا ہے۔ اسے "زونہ انسرٹا" کہا جاتا ہے، یعنی "نامعلوم حصہ"۔ یہی مقام انسان کو شک اور اعتماد کے بیچ میں رکھتا ہے۔ جب بندہ دعا یا ذکر میں ہوتا ہے اور دل غیر یقینی کے باوجود سکون ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، تو یہ حصہ فعال رہتا ہے۔ گویا یہ وہ دروازہ ہے جہاں سے انسان کی بےچینی اللہ پر بھروسے میں بدل سکتی ہے۔ ماں کے بیٹے کا استعارہ معاشرتی طور پر "ماں کے بیٹے" سے مراد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی ماں سے غیر معمولی حد تک جڑے رہتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر یہ گہرا رشتہ ایک محفوظ پناہ گاہ کی علامت ہے۔ مذہبی معنوں میں یہی تعلق ماں کی رحمت سے بڑھ کر اللہ کی بے پایاں رحمت کا عکس بن جاتا ہے۔ قرآن میں "رحم" اور "رحمت" کا تعلق بھی اسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ قبل از وقت غم جب کوئی شخص جانتا ہے کہ اس کی ماں یا کوئی قریبی رشتہ ...