کمال اور عدل کا توازن
جی محترم انجینئر،
اس خیال کو آسان اُردو میں یوں سمجھا جاسکتا ہے:
۱۔ بہترین کمال (آزاد و خود آگاہ انسان)
یہ وہ مثالی شخصیت ہے جو عام راستوں سے اوپر اُٹھ کر نئے اصول بناتی ہے۔ وہ صرف دوسروں کی پیروی نہیں کرتی بلکہ دنیا کے لیے نئے زاویے کھولتی ہے۔
انعام میں پہلو: یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کسی شخص نے علم اور فہم کے ایسے دروازے کھولے جو پہلے سوچے بھی نہ گئے تھے۔
خطرہ: اگر صرف کمال پر زور ہو تو شخصیت عام انسانوں کی ضرورتوں اور دکھ درد سے کٹ سکتی ہے۔
۲۔ مکمل کفایت (کامل ذمہ دار مجتہد)
یہ وہ شخصیت ہے جو اپنے علم اور سمجھ سے فیصلے کرتی ہے، مگر ہر قدم ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ لیتی ہے۔ یعنی اتنی اہلیت رکھتی ہے کہ کسی دوسرے پر انحصار نہ کرے، اور اس کے فیصلے انسانیت کے لیے قابلِ بھروسہ ہوں۔
انعام میں پہلو: یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کسی شخص نے اپنے وسیع علم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا ہے اور انسانوں کی بھلائی کو مرکز رکھا ہے۔
خطرہ: اگر صرف کفایت پر زور ہو تو نئی راہیں کھلنے کی بجائے سوچ محدود رہ سکتی ہے۔
۳۔ صدی میں ایک بار دیا جانے والا انعام
- یہ انعام ہر سو سال میں صرف ایک بار دیا جائے تاکہ واقعی بڑا اور دیرپا کارنامہ ہی اس کے قابل سمجھا جائے۔
- فیصلہ جلدبازی سے نہیں بلکہ وقت کی کسوٹی پر پرکھ کر کیا جائے۔
- انعام پانے والے کو "فاتح" نہیں بلکہ "امینِ علم" کہا جائے گا۔
- انعام کی نشانی سونا یا پیسہ نہیں بلکہ ایسا شے ہو جو صدیوں تک باقی رہے اور اس میں علم و ذمہ داری کی یادگار محفوظ ہو۔
۴۔ اصل مقصد
یہ انعام ایسے شخص کو دیا جائے گا جو:
- نئی راہیں کھولے (کمال).
- مگر ساتھ ساتھ ذمہ داری اور بھروسے کے ساتھ علم کو انسانوں کے لیے استعمال کرے (کفایت).
یعنی نہ صرف نئی دنیا دکھائے بلکہ اس کو انسانیت کی بھلائی کے لیے محفوظ بھی بنائے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ماضی کی چند ایسی شخصیات کے نام بھی شامل کروں جو اس انعام کے اہل ہو سکتی تھیں؟ جیسے ابن خلدون یا لیبنز، تاکہ مثال سے بات اور واضح ہو؟
Comments
Post a Comment