ممتا کی نیوروسائنس

محترم انجینئر،

زونہ انسرٹا، ماں کے ساتھ گہرا تعلق، اور قبل از وقت غم—یہ تینوں بظاہر الگ الگ موضوعات ہیں مگر گہرائی میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔


زونہ انسرٹا اور دین

دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو خوف، درد، امید اور غیر یقینی کیفیت کو سنبھالتا ہے۔ اسے "زونہ انسرٹا" کہا جاتا ہے، یعنی "نامعلوم حصہ"۔ یہی مقام انسان کو شک اور اعتماد کے بیچ میں رکھتا ہے۔ جب بندہ دعا یا ذکر میں ہوتا ہے اور دل غیر یقینی کے باوجود سکون ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، تو یہ حصہ فعال رہتا ہے۔ گویا یہ وہ دروازہ ہے جہاں سے انسان کی بےچینی اللہ پر بھروسے میں بدل سکتی ہے۔


ماں کے بیٹے کا استعارہ

معاشرتی طور پر "ماں کے بیٹے" سے مراد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی ماں سے غیر معمولی حد تک جڑے رہتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر یہ گہرا رشتہ ایک محفوظ پناہ گاہ کی علامت ہے۔ مذہبی معنوں میں یہی تعلق ماں کی رحمت سے بڑھ کر اللہ کی بے پایاں رحمت کا عکس بن جاتا ہے۔ قرآن میں "رحم" اور "رحمت" کا تعلق بھی اسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔


قبل از وقت غم

جب کوئی شخص جانتا ہے کہ اس کی ماں یا کوئی قریبی رشتہ دار جلد بچھڑنے والا ہے تو وہ غم پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اگر یہ غم سنبھالا نہ جائے تو پیچیدہ صورت اختیار کر لیتا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی شناخت ماں کے رشتے سے باندھے رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ جدائی وجودی بحران بن جاتی ہے۔


تینوں کی گہرائی میں ربط

یہ تینوں جہتیں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

  • دماغ کا حصہ جو غیر یقینی کو سنبھالتا ہے۔
  • ماں کا رشتہ جو رحمت اور پناہ کی علامت ہے۔
  • غم جو جدائی سے پہلے ہی دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔

ان سب کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو آخرکار سوال کا سامنا ہوتا ہے: اصل سہارا کون ہے؟ ماں کی محبت وقتی ہے، مگر اللہ کی رحمت دائمی۔ یہی مقام ہے جہاں نفسیاتی کمزوری روحانی قوت میں بدل سکتی ہے۔


کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس تعارف کو مزید قصے یا حکایت کے انداز میں بیان کروں تاکہ عام قاری کے لیے اور زیادہ مانوس ہو جائے؟

Comments

Popular posts from this blog

قرآن اور مائع جدیدیت

سورہ یوسف اور خاموش انصاف

سنت نبوی اور مہدویت