مشکل کے ساتھ آسانی
پیریسٹالسس یا حرکت دودیہ یعنی امعائی حرکت کو سادہ انداز میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ ہمارے جسم میں ایک قدرتی لَے دار حرکت ہے، جس کے ذریعے خوراک یا مائع آہستہ آہستہ ایک نالی سے دوسری طرف بڑھتا ہے۔ مثال کے طور پر معدے اور آنتوں کی دیواریں باری باری سکڑتی اور ڈھیل چھوڑتی ہیں، اور یہی تال میل کھانے کو آگے دھکیلتا ہے۔ یہ محض جسمانی عمل نہیں، بلکہ ایک طرح کی فلسفیانہ علامت بھی ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ زندگی میں آگے بڑھنا ہمیشہ سیدھا اور مسلسل نہیں ہوتا بلکہ کبھی دباؤ (سکڑاؤ) آتا ہے اور کبھی کشادگی (ڈھیل) ملتی ہے۔ یہی دباؤ اور کشادگی کا امتزاج انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔ جذباتی سطح پر بھی ہم ایسا ہی محسوس کرتے ہیں: کبھی دل بھاری اور تنگ ہو جاتا ہے، پھر سکون اور وسعت ملتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پیریسٹالسس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کی حرکت اور ترقی لَے اور توازن کے ساتھ ہے—نہ مسلسل سختی میں، نہ ہمیشہ آسانی میں، بلکہ دونوں کے امتزاج سے۔ کیا آپ چاہتے ہیں میں اس کو مزید قرآنی اصطلاحات جیسے "قبض و بسط" کے حوالے سے بیان کروں؟